Thursday, 12 October 2017
Thursday, 28 September 2017
Monday, 25 September 2017
New Story Real
جنوری کی سردی نے ہر جگہ سناٹا کیا ہوا تھا سب لوگ اپنے کمروں میں ہیٹر کے اگے بیٹھے یا تو مونگ پھلی کا مزہ لے رہے ہونگے یا کافی یا چائے کا دور چل رہا ہوگا آج تو ہلکی بوندہ باندی نے ہر کسی کو گھر تک ہی محدود کر دیا ،،،،،پر ایک زی روح سردی کی پرواہ کئے بغیر چھت پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔ اسکے آنسو بارش کے پانی کے ساتھ بہتے چلے جا رہے تھے۔ وہ جانے کب تک یوہی بیٹھی رہتی ،،،اگر اسکی ماں اسے ڈھونڈتے چھت پر نا آجاتی ۔
“سائرہ بیٹا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ ،،تم رو رہی ہو ؟ ،،،اسنے آنکھیں اوپر کر کے ماں کی طرف دیکھا ۔اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جو اسکا حال دل بیان کرنے کے لئے بہت تھی۔اماں اسے اٹھا کر کمرے میں لے گئی ۔اسکو کمبل اوڑھا کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں کو سہلانے لگی ،،،،،ہیٹر کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکاتھا۔
“امی وہ میری قدر کیوں نہیں کرتا ؟،،،،،،کیوں اسنے اپنا دل میرے لئے سخت کر لیا ہے ،امی؟ ،،،،،میری غلطی کیا ہے امی؟،،،،،،،،وہ کافی دیر ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون لیتی رہی،،،،وہ آج میکے ماں کو ملنے آئی تھی۔اسنے کبھی گلا نہیں کیا تھا آج جانے کیوں ماں کے سامنے دل کی بات بول بیٹھی ۔،،،،،،“امی وہ پریشان ہے میں جانتی ہوں اسکو کاروبار میں پریشانیاں ہے ۔وہ بہت پریشان ہے، پر کیا اسکی وجہ میں ہوں امی ؟ ،،،،،،،،،،،“ہوا کیا ہے ؟ میری بچی “،،،اماں نے اسکے بالوں کو سنوارتے ہوے کہا ،،،،،،،،،امی اسکو کاروبار میں پریشانی ہے کوئی وہ بہت غصہ کرتا ہے مجھ پر امی ،،،،مجھے کہتا بس چپ رہو تمہارے چپ رہنے سے مجھے سکون ملتا ہے،،،،،اتنا کہہ کر وہ رونے لگی ،،،،،اسنے کیوں کہا ایسا کوئی وجہ تو ہوگی ؟،،،،امی نے فکرمندی سے کہا،،،،،،ان کی طبعیت خراب تھی میں نے بس یہ کہا ڈکٹر پاس چلے جائے ،،،اسنے کہا آگے سے تمہں اگر زرا سا میرا احساس ہوتا تم یہ نا کہتی ،،،،تم میری پریشانی ختم کرتی ۔
“امی مجھے احساس تھا تب ہی ڈاکٹر کا بولا ،،،،میں کوئی بھی بات کرتی ہوں وہ مجھ سے غصے سے ہی بات کرتا ہے۔ جب میں کہتی ہوں پلیز آرام سے بات کرے کیا مجھ سے بیزار ہوگئے ہے ؟ تب کہا فضول سوچتی ہو تم ،،،فضول بولتی ہو چپ رہا کرو۔ ،،،،امی کبھی اسنے یہ نہیں سوچا جب میرا لہجہ ہی کاٹ دار ہوتا اسنے تو خود ہی غلط سوچنا،،،،،مجھے اس سوچ پر کون مجبور کرتا ہے امی ؟،،،،،،،،وہ رونے لگی اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ،،،،،امی نے اسے دل کھول کے رونے دیا،،،،امی جب میں اسکے لہجے کا غصے کا گلا کرتی ہو تب کہتا تمہارے فضول بولنے کی عادت نہیں جائے گی تمہاری زبان نے مجھے تم سے دور کیا ،،،،،،،کیا امی اپنے محبوب سے گلا کرنا زبان درازی ہے ؟،،،،،،،کچھ دیر رولینے کے بعد وہ پھر بولی،،،،،،کیا میرا دل نہیں امی ؟،،،،کیا میں نہیں سوچتی کبھی جب میں اسکے روایے کا گیلا کروں وہ پیار سے میری بات سنے مجھے ہاتھ سے پکڑ کے اپنے پاس بٹھائے میری ساری شکایتں سنے ََََ،،،،،،وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا مجھے ہر بات پر ڈانت پرتی ہی امی،،،،،، “بس کر میری بچی بس کر “ امی نے اسے گلے لگا لیا یہ ایک ماں کے دل ہی جانتا اس پر کیا گزر رہی تھی۔ نہیں امی آج نا روکے رو لینے دے مجھے ،،،،رو لینے دے ،،،نہیں تو میرا دل پھٹ جائے گا،،،،،،،،،میں نے اسکی ہر بات مانی ہر وہ کام چھور دیا جو اسے پسند نہیں تھا اسکی پسند اپنا لی ،،،،وہ پھر مجھ سے راضی نہیں ،،،،وہ مجھ سی خوش کیوں نہیں ہوتا ؟،،،،،اسکو میں نطر کیوں نہیں آتی ،،،،،،وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر چیکھنے لگی،،،،،جب دل کرتا مجھے کمرے سے نکال دیتا ہے امی ،،،،بس کر میری بچی بس کر صبر کر بیٹا اللہ سے مدد مانگ ،،،،،صبر سے نعمت کا انتظار کر میری بچی ،،،،،،،اماں اسکو میرا میں نطر نیئں آتی اسکو میرا وجود کیوں نظر نیں آتا وہ کیوں مجھے نہیں دیکھتا ؟،،،،،،وہ میرے صبر کو آزماتا ہے امی ََََََ،،،،،،،بس کر سایرہ اور کتنا روئے گی بس کر سب ٹھیک ہوجایگا اللہ سے مدد مانگ میری بیٹی دعا قسمت بدل دیتی ہے
“اے ایمان والوں صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، اللہ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ،،،،،،یہ تو قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے ،،،،صبر کرو بیٹا ،،،تم اسکے ساتھ گزارے اچھے دن کیوں بھول گیی ہو ،،،،اماں نے اسے پیار سے سمجھایا جیسے کوئی چھوٹی بچی کو گڑیا کھو جانے پر سمجھاتا ہے۔ امی وہ دن یاد ہے تو ہی اسکے ساتھ ہوں ابھی تک ،،،،،پر اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا،،،،اسنے ایک اور کلا کیا،،دیکھو بیٹا جب ہم خود غلطی کرتے ہے ،،،،تو کیا ہم خود سے پیار کرنا چھوڑ دیتے ہیں بیٹا نہیں نا؟،،،،،،اسنے ماں کی بات پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا وہ ٹھیک کہ رہی تھی اسنے ایسا سوچا نہیں تھا ۔وہ بس نیگٹیو سوچتی رہی تھی ۔
اماں کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلی گئیی ،،،،تھوڑی دیر بعد اماں اسکے لئے دودھ کا گلاس لے کر نمودار ہوئی ،،،،،اسکے لاکھ منا کرنے پر اماں نے اسکو پانی پلا کر ہی دم لیا ۔ تھوڑی دیر تک وہ روتے روتے سو گئی،،،کیوں کے دودھ میں نیند آور دوا ملا دی تھی اماں نے،،،،نہیں تو وہ ساری رات روتی رہتی ،،،،اسے سلا کر خود اماں اسکے لئے دعا کے لئے رب کے حضور حاضری دینے چلی گئی۔،،،
اگلے دن وہ بخار میں پھنک رہی تھی اسنے اماں سے کہا وہ کچھ دن آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے ،،،،،اماں نے کہا اپنے میاں سے اجازت لے لو اسنے اماں کے کہنے پر اسے فون کیا ،،،،،،“ اسلام علیکم “ اسنے دوسری بیل پر فون اٹھایا تو وہ جلدی سے بولی ۔ “واعلیکم اسلام “ دوسری طرف سے جواب آیا،،،،،میں کچھ دن امی کی طرف رک جاؤ ؟،،،،،،“ رک جاو میں نے کب منا کیا ،،،اللہ حافظ۔ یہ کہہ کر اسنے فون بند کر دیا ،وہ کتنی دیر فون کو ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی ،،،،،
ایسے ہی بہت سارے دن گزر گئے وہ ٹھیک ہو گئی تھی ۔اور ہر روز اسکا انتظار کرتی ،،،،کبھی گھنٹوں بیٹھی گیٹ کو دیکھتی رہتی یا ٹیلیفون کے پاس بیٹھی رہتی ،،،،نا وہ خود آیا نہ ہی اسکا فون ،،،،ایسے ہی ایک دن وہ فون کے پاس بیٹھی تھی،جب فون کی بیل ہوئی اسنے لپک کر فون کان کو لگایا۔ “میں تمہیں لینے آرہا ھوں تیار رہنا“ ،،،،اتنا کہہ کر اسنے فون بند کر دیا اور وہ بھاگ کر اماں کو بتانے گیئ اماں نے بدلے میں اسے ڈھیروں دعاییئں دی اور اللہ کا شکر ادا کیا،،،،
وہ برے نک سک سے تیار ہوئی تھی اسنے ہر ہار سنگھار اسکی پسند کا کیا تھا ۔وہ آیا تو اماں نے ڈھیر ساری دعاؤں کے سایے میں اسکو رخصت کیا ۔ “میری پریشانی ختم ہو گیئ ہے سائیرہ،،،اور میں تم سے ہر بات کی معافی مانگتا ہوں جس نے تمہیں ہرٹ کیا ۔ اسکا صبر اور دعا نے آج اسکو یہ دن دیکھایا وہ بہت خوش تھی کیوں کے اسے صبر کا اجر مل گیا تھا۔۔۔
“سائرہ بیٹا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ ،،تم رو رہی ہو ؟ ،،،اسنے آنکھیں اوپر کر کے ماں کی طرف دیکھا ۔اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جو اسکا حال دل بیان کرنے کے لئے بہت تھی۔اماں اسے اٹھا کر کمرے میں لے گئی ۔اسکو کمبل اوڑھا کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں کو سہلانے لگی ،،،،،ہیٹر کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکاتھا۔
“امی وہ میری قدر کیوں نہیں کرتا ؟،،،،،،کیوں اسنے اپنا دل میرے لئے سخت کر لیا ہے ،امی؟ ،،،،،میری غلطی کیا ہے امی؟،،،،،،،،وہ کافی دیر ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون لیتی رہی،،،،وہ آج میکے ماں کو ملنے آئی تھی۔اسنے کبھی گلا نہیں کیا تھا آج جانے کیوں ماں کے سامنے دل کی بات بول بیٹھی ۔،،،،،،“امی وہ پریشان ہے میں جانتی ہوں اسکو کاروبار میں پریشانیاں ہے ۔وہ بہت پریشان ہے، پر کیا اسکی وجہ میں ہوں امی ؟ ،،،،،،،،،،،“ہوا کیا ہے ؟ میری بچی “،،،اماں نے اسکے بالوں کو سنوارتے ہوے کہا ،،،،،،،،،امی اسکو کاروبار میں پریشانی ہے کوئی وہ بہت غصہ کرتا ہے مجھ پر امی ،،،،مجھے کہتا بس چپ رہو تمہارے چپ رہنے سے مجھے سکون ملتا ہے،،،،،اتنا کہہ کر وہ رونے لگی ،،،،،اسنے کیوں کہا ایسا کوئی وجہ تو ہوگی ؟،،،،امی نے فکرمندی سے کہا،،،،،،ان کی طبعیت خراب تھی میں نے بس یہ کہا ڈکٹر پاس چلے جائے ،،،اسنے کہا آگے سے تمہں اگر زرا سا میرا احساس ہوتا تم یہ نا کہتی ،،،،تم میری پریشانی ختم کرتی ۔
“امی مجھے احساس تھا تب ہی ڈاکٹر کا بولا ،،،،میں کوئی بھی بات کرتی ہوں وہ مجھ سے غصے سے ہی بات کرتا ہے۔ جب میں کہتی ہوں پلیز آرام سے بات کرے کیا مجھ سے بیزار ہوگئے ہے ؟ تب کہا فضول سوچتی ہو تم ،،،فضول بولتی ہو چپ رہا کرو۔ ،،،،امی کبھی اسنے یہ نہیں سوچا جب میرا لہجہ ہی کاٹ دار ہوتا اسنے تو خود ہی غلط سوچنا،،،،،مجھے اس سوچ پر کون مجبور کرتا ہے امی ؟،،،،،،،،وہ رونے لگی اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ،،،،،امی نے اسے دل کھول کے رونے دیا،،،،امی جب میں اسکے لہجے کا غصے کا گلا کرتی ہو تب کہتا تمہارے فضول بولنے کی عادت نہیں جائے گی تمہاری زبان نے مجھے تم سے دور کیا ،،،،،،،کیا امی اپنے محبوب سے گلا کرنا زبان درازی ہے ؟،،،،،،،کچھ دیر رولینے کے بعد وہ پھر بولی،،،،،،کیا میرا دل نہیں امی ؟،،،،کیا میں نہیں سوچتی کبھی جب میں اسکے روایے کا گیلا کروں وہ پیار سے میری بات سنے مجھے ہاتھ سے پکڑ کے اپنے پاس بٹھائے میری ساری شکایتں سنے ََََ،،،،،،وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا مجھے ہر بات پر ڈانت پرتی ہی امی،،،،،، “بس کر میری بچی بس کر “ امی نے اسے گلے لگا لیا یہ ایک ماں کے دل ہی جانتا اس پر کیا گزر رہی تھی۔ نہیں امی آج نا روکے رو لینے دے مجھے ،،،،رو لینے دے ،،،نہیں تو میرا دل پھٹ جائے گا،،،،،،،،،میں نے اسکی ہر بات مانی ہر وہ کام چھور دیا جو اسے پسند نہیں تھا اسکی پسند اپنا لی ،،،،وہ پھر مجھ سے راضی نہیں ،،،،وہ مجھ سی خوش کیوں نہیں ہوتا ؟،،،،،اسکو میں نطر کیوں نہیں آتی ،،،،،،وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر چیکھنے لگی،،،،،جب دل کرتا مجھے کمرے سے نکال دیتا ہے امی ،،،،بس کر میری بچی بس کر صبر کر بیٹا اللہ سے مدد مانگ ،،،،،صبر سے نعمت کا انتظار کر میری بچی ،،،،،،،اماں اسکو میرا میں نطر نیئں آتی اسکو میرا وجود کیوں نظر نیں آتا وہ کیوں مجھے نہیں دیکھتا ؟،،،،،،وہ میرے صبر کو آزماتا ہے امی ََََََ،،،،،،،بس کر سایرہ اور کتنا روئے گی بس کر سب ٹھیک ہوجایگا اللہ سے مدد مانگ میری بیٹی دعا قسمت بدل دیتی ہے
“اے ایمان والوں صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، اللہ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ،،،،،،یہ تو قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے ،،،،صبر کرو بیٹا ،،،تم اسکے ساتھ گزارے اچھے دن کیوں بھول گیی ہو ،،،،اماں نے اسے پیار سے سمجھایا جیسے کوئی چھوٹی بچی کو گڑیا کھو جانے پر سمجھاتا ہے۔ امی وہ دن یاد ہے تو ہی اسکے ساتھ ہوں ابھی تک ،،،،،پر اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا،،،،اسنے ایک اور کلا کیا،،دیکھو بیٹا جب ہم خود غلطی کرتے ہے ،،،،تو کیا ہم خود سے پیار کرنا چھوڑ دیتے ہیں بیٹا نہیں نا؟،،،،،،اسنے ماں کی بات پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا وہ ٹھیک کہ رہی تھی اسنے ایسا سوچا نہیں تھا ۔وہ بس نیگٹیو سوچتی رہی تھی ۔
اماں کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلی گئیی ،،،،تھوڑی دیر بعد اماں اسکے لئے دودھ کا گلاس لے کر نمودار ہوئی ،،،،،اسکے لاکھ منا کرنے پر اماں نے اسکو پانی پلا کر ہی دم لیا ۔ تھوڑی دیر تک وہ روتے روتے سو گئی،،،کیوں کے دودھ میں نیند آور دوا ملا دی تھی اماں نے،،،،نہیں تو وہ ساری رات روتی رہتی ،،،،اسے سلا کر خود اماں اسکے لئے دعا کے لئے رب کے حضور حاضری دینے چلی گئی۔،،،
اگلے دن وہ بخار میں پھنک رہی تھی اسنے اماں سے کہا وہ کچھ دن آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے ،،،،،اماں نے کہا اپنے میاں سے اجازت لے لو اسنے اماں کے کہنے پر اسے فون کیا ،،،،،،“ اسلام علیکم “ اسنے دوسری بیل پر فون اٹھایا تو وہ جلدی سے بولی ۔ “واعلیکم اسلام “ دوسری طرف سے جواب آیا،،،،،میں کچھ دن امی کی طرف رک جاؤ ؟،،،،،،“ رک جاو میں نے کب منا کیا ،،،اللہ حافظ۔ یہ کہہ کر اسنے فون بند کر دیا ،وہ کتنی دیر فون کو ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی ،،،،،
ایسے ہی بہت سارے دن گزر گئے وہ ٹھیک ہو گئی تھی ۔اور ہر روز اسکا انتظار کرتی ،،،،کبھی گھنٹوں بیٹھی گیٹ کو دیکھتی رہتی یا ٹیلیفون کے پاس بیٹھی رہتی ،،،،نا وہ خود آیا نہ ہی اسکا فون ،،،،ایسے ہی ایک دن وہ فون کے پاس بیٹھی تھی،جب فون کی بیل ہوئی اسنے لپک کر فون کان کو لگایا۔ “میں تمہیں لینے آرہا ھوں تیار رہنا“ ،،،،اتنا کہہ کر اسنے فون بند کر دیا اور وہ بھاگ کر اماں کو بتانے گیئ اماں نے بدلے میں اسے ڈھیروں دعاییئں دی اور اللہ کا شکر ادا کیا،،،،
وہ برے نک سک سے تیار ہوئی تھی اسنے ہر ہار سنگھار اسکی پسند کا کیا تھا ۔وہ آیا تو اماں نے ڈھیر ساری دعاؤں کے سایے میں اسکو رخصت کیا ۔ “میری پریشانی ختم ہو گیئ ہے سائیرہ،،،اور میں تم سے ہر بات کی معافی مانگتا ہوں جس نے تمہیں ہرٹ کیا ۔ اسکا صبر اور دعا نے آج اسکو یہ دن دیکھایا وہ بہت خوش تھی کیوں کے اسے صبر کا اجر مل گیا تھا۔۔۔
Sunday, 24 September 2017
NEWS UPDATES SUNDAY 24-9-2017
NEWS UPDATES SUNDAY 24-9-2017
CEO of U.TV and Founder of MUZ hello to the futture! Muhammad Usama Zahoor Meeting at Lahore,Pakistan.
Points of Talking (Vip points)
"Our Media group U.TV Start Live streeming Very soon may be in next month"
"We would Start a Student Speeches Programs Live on our channel"
"Soon We Would Create a Online Payment Website that people could use this for incracing there money power"
(This is a part of live broadcast from U.TV news channel and 4uTV)
Saturday, 23 September 2017
U.TV New Updates 23-9-2017 Saturday Pak.
U.TV New Updates 23-9-2017 Saturday Pak.
پاکستانی بحریہ کا بحری جہاز شکن میزائل کا کامیاب مظاہرہ
تصویر کے کاپی رائٹAFP
پاکستانی بحریہ نے سنیچر کو شمالی بحیرہِ عرب میں بحری جہاز شکن فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کھلے سمندر میں یہ مظاہرہ کیا اور کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔
اس موقعے پر پاکستانی بحریہ کے سربراہ محمد زکا اللہ نے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا سی کنگ ہیلی کاپٹر سے میزائل کا کامیاب مظاہرہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جنگی تیاری کا واضح ثبوت ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی بحریہ اپنے وطن کی سالمیت اور مفادات کا ہر قیمت ہر دفاع کرے گی۔
یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستانی بحریہ نے آبدوز سے کروز میزائل 'بابر تھری' کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔
میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔
U.TV News Updates 23-9-2017 Saturday
U.TV News Updates 23-9-2017 Saturday
’پنجاب نہیں جاؤں گی: پی پی پی‘
تصویر کے کاپی رائٹMALEEHA MANZOOR
سوشلستان میں ان دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لباس، اٹھنے بیٹھنے، اور مختلف مجالس میں سوال و جواب پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ٹائی کیوں نہیں لگائی یا فلاں ملاقات میں وہ کرسی پر نہیں بیٹھے اور صوفے پر کیوں بیٹھے۔ اور یہ کہ نیویارک میں پاکستان کا سفارتی عملہ آخر کیوں وزیراعظم کے کوٹ پر لگا بیج نہیں اتار سکا جو ایرانی صدر کی ملاقات میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ لوگ وزیراعظم کی حاضر جوابی اور اپنے پیش رو کی نسبت میڈیا کا سامنا کرنے اور دنیا کے سامنے آنے کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔
مگر اس ہفتے ہمارا موضوع یہ نہیں بلکہ ہم بات کریں گے لاہور کے حلقہ این اے 120 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے برعکس انتہائی مایوس کُن کارکردگی اور اس پر جماعت کے رہنماؤں کے بیانات پر سوشل میڈیا کے ردِ عمل کی۔
'پنجاب میں پی پی پی کا جنازہ‘
پاکستان پیپلز پارٹی کا آغاز 1967 میں جس شہر لاہور سے ہوا تھا پچاس سال بعد اسی شہر لاہور میں اس جماعت کی ایک بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں۔
لاہور چھوڑیں پورے پنجاب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام صوبائی اسمبلی کی نشستیں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں بلکہ دو انگلیاں فارغ بچ جائیں گی جبکہ قومی اسمبلی میں صرف تین نشستیں ہیں۔
اس پر جماعت کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دعووں پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید بلکہ طنز کیا جا رہا ہے۔
اور تو اور ہمایوں سعید نے اس موقع پر اپنی فلم ریلیز کر کے اس ساری مہم کو نعرہ بھی بخش دیا کہ پنجاب نہیں جاؤں گی: پی پی پی
یہ جملہ اینکر وسیم بادامی نے ٹویٹ کیا جسے ہزاروں ری ٹویٹس اور لائکس ملے۔
خرم محمود نے لکھا ’پیپلز پارٹی اپنے آپ کو پنجاب میں خود تباہ کیے جا رہی ہے اور اس کے رہنماؤں کی جانب سے بڑے پیمانے پر اگلے انتخابات سے قبل دوسری جماعتوں میں ہجرت کا سلسلہ یقینی ہے۔'
زرتاج گل وزیر نے لکھا پیپلز پارٹی کے امیدوار کو این اے 120 میں 1414 ووٹ ملے جس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ اگلے انتخابات میں مقابلہ پی ٹی آئی اور ن لیگ میں ہو گا۔'
حسنین نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’پنجاب میں پی پی پی کا باقاعدہ سیاسی جنازہ پڑھ دیا گیا اور پنجاب سے پی پی پی فارغ ہو گئی ہے۔'
اس حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری پر بھی شدید تنقید کی گئی۔ شمائلہ رحمان نے لکھا ’پی پی پی این 120 میں کہیں نہیں ہے۔ زرداری اینڈ کمپنی نے پی پی پی کا پنجاب سے صفایا کر دیا۔'
یہی بات اعجاز الحق نے بھی کہی کہ ’آصف علی زداری کی پارٹی پنجاب میں ختم ہو گئی ہے۔'
مگر فواد فیض نے سوال کیا کہ ’اس سب کی وجہ پی پی پی کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کھل کر سیاسی عمل میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔'
رحمٰن اظہر نے تبصرہ کیا کہ ’پی پی پی کی پنجاب میں حیثیت کو ایک نشست کے ضمنی انتخاب پر جانچنا ناجائز ہے۔ وہ بھی ایسی نشست پر جو تیس سال سے اس سیاسی جماعت کی نہیں رہی۔'
اس ہفتے کی تصاویر
کہانی کو شیئر کریں شیئرنگ کے بارے میں
Subscribe to:
Posts (Atom)
Latest Postes
-
Anouncement From U.TV یو ڈاٹ ٹی وی کی جانب سے خوش آمدید معزز دوستو یو ڈاٹ ٹی وی ایک ٹی وی چینل ہے اور ساتھ میں ایک ...
















